مقدمہ

تعارف

مقدمہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ اس کی سلامتی اور برکتیں ہوں ہمارے نبی محمد پر، ان کی آل پر، ان کے صحابہ پر، اور ان سب پر جو قیامت کے دن تک بھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کریں۔

جب موسیٰ نے پہاڑ کی جانب ایک آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا: "تم ذرا سی دیر ٹھہر جاؤ مجھے آگ دکھائی دی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ میں اس کا کوئی انگارا تمہارے پاس ﻻؤں یا آگ کے پاس سے راستے کی اطلاع پاؤں" (قرآن 20:10؛ نیز دیکھیے 28:29؛ ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑھی)۔ عربی میں اس چھوٹے سے شعلے کو قبس کہتے ہیں۔ یہ منصوبہ اپنا نام اسی لمحے سے لیتا ہے: ایک چھوٹی سی روشنی، جو ایک ایسا شخص دوسروں تک لے جاتا ہے جس نے وہ آگ خود نہیں جلائی۔

میں بس یہی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ یہ روشنی میری نہیں۔ یہ اللہ کے کلام اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ہدایت کی روشنی ہے۔ یہ ہم تک ان کے صحابہ کے ذریعے پہنچی، پھر ان تابعین کے ذریعے جنھوں نے ان سے سیکھا، اور پھر علما کی ان نسلوں کے ذریعے جنھوں نے ہر روایت کو اتنی احتیاط سے یاد کیا، پرکھا اور سمجھایا جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ یہاں جو کچھ اچھا ہے وہ انھی کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے۔

قصے ہی کیوں؟ اس لیے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خود قصے بیان فرمائے۔ ایک آدمی جس نے ننانوے جانیں لیں اور پھر بھی توبہ کا دروازہ کھلا پایا۔ تین آدمی جو ایک غار میں بند ہو گئے، اور ہر ایک کو ایک مخلص عمل نے بچایا۔ ایک آدمی جس نے ہزار دینار اور ایک خالی سمندر کے معاملے میں اللہ پر بھروسا کیا۔ یہ قصے دلوں کو نرم کرنے کے لیے سنائے گئے تھے، اور میں چاہتا تھا کہ یہ ایسی نسل تک پہنچیں جو پڑھنے سے زیادہ دیکھتی ہے۔ اسی لیے ہم انھیں اینیمیشن میں بیان کرتے ہیں۔ ہر قسط کے نیچے آپ کو اصل متن، اس کے مآخذ اور اس کے بارے میں علما کے اقوال ملیں گے، تاکہ آپ ہمیشہ اصل ماخذ تک لوٹ سکیں۔

نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: "میرا پیغام لوگوں کو پہنچاؤ! اگرچہ ایک ہی آیت ہو" (صحیح بخاری 3461؛ ترجمہ: مولانا داود راز)۔ آپ نے فرمایا: "اللہ اس شخص کو تروتازہ (اور خوش) رکھے جس نے مجھ سے کوئی بات سنی پھر اس نے اسے جیسا کچھ مجھ سے سنا تھا ہوبہو دوسروں تک پہنچا دیا" (جامع ترمذی 2657؛ ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی)۔ اور آپ نے فرمایا: "جس شخص نے کسی نیکی کا پتہ بتایا، اس کے لیے (بھی) نیکی کرنے والے کے جیسا اجر ہے" (صحیح مسلم 1893؛ ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری)۔ یہی الفاظ Qabas کے پیچھے کارفرما امید ہیں۔ آپ نے اپنی طرف ایسی بات منسوب کرنے سے بھی خبردار کیا جو آپ نے نہ کہی ہو (صحیح بخاری 110)۔ اسی لیے ہر قصہ شائع ہونے سے پہلے حدیث کی کتابوں سے پرکھا جاتا ہے، اور جس چیز کی سند صحیح نہ ہو اس پر واضح نشان لگایا جاتا ہے اور اسے کبھی حدیث نہیں کہا جاتا۔

مجھے آپ سے صاف صاف کہنا ہے کہ یہ کام کون کر رہا ہے۔ میں عالم نہیں ہوں۔ میں اللہ کا ایک کمزور بندہ ہوں، اور مجھ سے غلطیاں ہوتی ہیں، بہت سی۔ یہاں غلطیاں ہوں گی: کسی ترجمے میں، کسی خلاصے میں، کسی تصویر میں، الفاظ کے کسی انتخاب میں۔ جیسا کہ عبداللہ بن مسعود نے کہا: "اگر میری یہ بات حق اور درست ہے تو اللہ کی جانب سے ہے اور اگر غلط ہے تو میری طرف سے ہے اور شیطان کی طرف سے" (سنن ابی داود 2116؛ ترجمہ: الشیخ عمر فاروق سعیدی)۔ سچ وہ ہے جو حدیث کہتی ہے اور جو اہلِ علم نے سمجھایا ہے، نہ کہ میرا بیان۔ اگر آپ کو کوئی غلطی ملے تو براہِ کرم مجھے لکھیے۔ میں اسے درست کروں گا، اور آپ کا شکر گزار رہوں گا۔

میں یہ کام اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہوں، اور کسی اور چیز کے لیے نہیں۔ میں Qabas سے ایک پائی بھی نہیں کماؤں گا۔ اگر کبھی کوئی آمدنی آئی تو وہ سیدھی امت کے لیے مزید مفید مواد بنانے میں واپس جائے گی۔ میں جس چیز کی امید رکھتا ہوں وہ کوئی دولت نہیں خرید سکتی: کہ اللہ اس کام کے ذریعے مجھے معاف کر دے، اس کے ذریعے مجھ پر رحم فرمائے، اور یہ کہ کوئی ایک قصہ، کسی ایک دن، کسی کو اس کے کچھ اور قریب کر دے۔

"میری توفیق اللہ ہی کی مدد سے ہے، اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں" (قرآن 11:88؛ ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑھی)۔
ہمارے پروردگار! تو ہم سے قبول فرما، تو ہی سننے واﻻ اور جاننے واﻻ ہے (قرآن 2:127؛ ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑھی)۔

— Qabas